Friday, March 4, 2022

پانچ قسم کے لوگ ہمیشہ غریب رہتے ہیں

دنیا میں دو قسم کے لوگ رہتے ہیں ایک امیر اور ایک غریب، غربت کی ذہنیت رکھنے والے اگر اتفاق سے امیر بن بھی جائیں تو وہ پھر سے غریب ہوجاتے ہیں۔ مشہور ٹی۔ وی پروگرام "کون بنے کا کروڑ پتی" پر بہت ساری ڈسکشن ہوئی ہے، کہ کیسے اس پروگرام کے ذریعہ کروڑ پتی بناجائے بہت سوں نے اسکی مخالفت بھی کی اور کچھ لوگ اس سے کروڑ پتی بھی بن گئے۔ لیکن کوئی یہ نہیں بتاتا کہ جو لوگ ایک رات میں کروڑ پتی بن گئے اب انکی صورتحال کیا ہے؟؟ سن دوہزار پانچ میں ملک کے موقر انگریزی اخبار "دی ٹیلی گراف" نے ایک رپورٹ شائع کی جس میں ٹی۔ وی۔ شو سے کروڑ پتی بننے والوں کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ ان میں سے بیش تر افراد پہلے کی طرح غریب پائے گئے۔ بہت کم لوگ ہی تھے جو امیر رہ سکے۔ دراصل انسان خیالات ہی کی پیداوار ہوتا ہے۔ اسکے خیالات ہی اسے امیر یا غریب بناتے ہیں۔ اس کا مطلب کیا ہے؟؟ اس کا مطلب یہ ہیکہ غریبی ہو یا امیری یہ ایک "مائنڈ سیٹ" کا نام ہے۔ آج اس رائٹ اپ میں ایسے لوگوں کی پانچ قسمیں بتائی جارہی ہیں جو امیر بننا چاہتے ہیں کوشش بھی کرتے ہیں لیکن پھر بھی غریب رہ جاتے ہیں۔ *1۔ ناکامی سے ڈرنے والے لوگ:* دنیا میں ناکامی نام کی کوئی چیز نہیں ہے یا تو ہم کامیاب ہوتے ہیں یا ہم کچھ سیکھتے ہیں۔ کامیابی حتمی ہوتی اور ناہی ناکامیابی حتمی ہوتی ہے صرف ہمت دیکھی جاتی ہے کہ آپ کب تک استقامت کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں۔ اگر میں ناکام ہوگیا تو کیا ہوگا؟؟ لوگ کیا کہیں گے؟؟ یہ سوچ آگے نہیں بڑھنے دیتی ہے اور آپ نئے تجربے نہیں کرپاتے اور اپنے آئیڈیاز کو خود اپنے ہی ہاتھوں ختم کردیتے ہیں۔ جب سوچ ایسی ہوتی ہیکہ "یہ تو بہت مشکل ہے" "خطرناک ہے" "یہ کام میرے بس کا نہیں ہے" "کچھ کرنے کیلئے میرے پاس اتنی اسکلس نہیں ہیں" "اس سے پہلے کسی نے ایسا کیا ہو گاکیا؟" امیر لوگ کبھی بھی ناکامی سے نہیں ڈرتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ ناکامی ہی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے؂ یہ سوچ کر شکست پر ہم مسکرا دیے ناکامیوں نے جیت کے گُر تو سکھا دیے *2۔شکایت کرنے والے لوگ:* شکایت کرنے والے لوگ ہمیشہ غریب رہ جاتے ہیں، غریب لوگ اپنی غریبی کی "وجہ" بتاتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ میرا بیک گراونڈ نہیں ہے، سرمایہ کی کمی کی وجہ سے میں کچھ نہیں کرپایا، حکومت کی پالیسیاں غلط ہیں، جی ایس ٹی آگئی، نوٹ بندی ہوگئی، مارکٹ ہی ٹھندا ہے، لاک ڈاون ہے، موسم ہی درست نہیں ہے۔وغیرہ۔وغیرہ۔ *3۔ اپنی لرننگ کو بند کردینے والے لوگ:* غریب لوگ عموما یہ سوچتے ہیں کہ انہیں سب معلوم ہے۔ کسی سے کچھ سیکھنا نہیں چاہتے۔ سوشل میڈیا پر زیادہ وقت صرف کرتے ہیں، لرننگ کے بجائے انٹرٹینمیٹ پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ آپ کی کامیابی کبھی بھی آپ کی "پرسنالیٹی ڈیولیپمنٹ" کے آگے نہیں جاتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہیکہ آپ جتنا سیکھیں گے اتنی زیادہ کامیابی حاصل کریں گے۔ امیر لوگ سیکھنے کیلئے سفر کرتے ہیں اور پیسہ بھی خرچ کرتے ہیں۔ خرچ ہونے والے پیسے کو امیر لوگ انویسٹمینٹ سمجھتے ہیں۔ جبکہ غریب لوگ کسی سے کچھ سیکھنے میں ہتک محسوس کرتے ہیں۔ اور اکثر اوقات تعصب کا شکار ہوجاتے ہیں۔ *4۔جو لوگ اپنا محاسبہ نہیں کرتے:* اپنے اندرون میں جھانکنے کے بجائے ہر مرتبہ باہر کی دنیا کی طرف دیکھتے ہیں۔ انکے پاس ایک وجہ ہوتی ہے، مجھے فلاں نے ایسا کہا۔۔۔۔ اسلئے۔۔۔فلاں کی بدمعاشی کی وجہ سے۔۔۔اپنا مقابلہ دوسروں سے کرتے ہیں۔ جبکہ امیر لوگ اپنے اندرون کی کمزوریوں پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہیں اور ہمیشہ اپنی اصلاح کیلئے تیار رہتے ہیں۔ یاد رکھئے اپنے بس میں جو ہو صرف اسکی بات کرنے والے کبھی غریب نہیں رہتے۔ *5۔جلدی ہار مان لیتے ہیں:* اندیشوں کے گرفتار جلد تھک جانے والے اور جلد ہتھیار ڈالنے والے لوگ غریب رہ جاتے ہیں ، مسلسل انتھک محنت سے نا گھبرانے اور ڈٹ کر کھڑے رہ جانے والے اور اَڑ جانے والے لوگ بالآخر آگے بڑھ جاتے ہیں، غریب لوگ تھوڑے سے کام سے گبھرا جاتے ہیں اور بہت جلد ہار مان لیتے ہیں۔ کے۔ ایف۔ سی۔ کے مالک کرنل سینڈیرس KFC کی ریسیپی لے کر ایک ہزار لوگوں تک گیا اور اپنا خواب بتایا کہ وہ ساری دنیا میں کے ایف سی کی دوکانیں کھولنا چاہتے ہے۔ کچھ نے انہیں پاگل سمجھا اور بہت سوں نے مذاق اڑایا آخر کار انیس سو باون میں پیٹی ہرمن سے ایک کانفرنسں میں ملاقات ہوئی اور دونوں نے پارٹنر شپ میں کنٹکی فرائیڈ چکن کی بنیاد رکھی جو آج دنیا کی سب سے موقر اور میک ڈونالڈ کے بعد دوسری بڑی فاسٹ فوڈ چین ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہیکہ کامیابی ملنے ہی والی ہوتی ہے اور اس سے عین قبل ہم ہمت ہار جاتے ہیں۔ تو آپ غریب نہیں رہنا چاہتے ہیں تو اٹھیں ناکامیوں سے نا گھبرائیں! شکایتیں کرنا بند کردیں! نئی نئی چیزیں سیکھیں! اپنا محاسبہ خود کریں! اور جلدی ہار نہ مانیں! خوش رہیں، خوشیاں بانٹتے رہیں۔💐💐💐

آزمودہ نسخے

کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا اسکے پاس ایک حکیم تھا جو ہر مرض کا علاج کردیا کرتا تھا بادشاہ اس حکیم کو بہت عزیز رکھتا تھا۔ ایک دن بادشاہ سلامت نے شاہی حکیم سے پوچھا کہ ایسا کوئی مرض ہے جسکا علاج انکے پاس نا ہو؟۔ حکیم نے کہا کہ ہاں، اگر کوئی شخص سردیوں کی صبح ٹھنڈا پانی نہا کر نہار منہ ایک مولی کھالے تو اس سے نمونیہ ہوجاتا ہےاور اس نمونیہ کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں ہے، دوسرے روز شام تک وہ آدمی نمونیہ سے مر جاتا ہے۔ ایک دفعہ کی بات ہے بادشاہ سلامت شکار پر تھے اور ایک گاوں کے قریب پڑاؤ میں ٹہرے ہوئے تھے۔ صبح ہوئی تو بادشاہ سلامت نے دیکھا کہ ایک دیہاتی سخت سردی کے باوجود میدان میں ٹھنڈا پانی نہارہا ہے۔ بادشاہ نے اپنے مصاحبوں کی طرف دیکھا اور کہا کہ اگر یہ آدمی ٹھنڈے پانی سے نہائے اور نہار منہ ایک مولی کھالے تو اسے نمونیہ ہو جائے گا ور یہ کل شام تک مر جائے گا۔ مصاحبوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ پھر کچھ لوگ دیہاتی کے پاس گئے اور اس سے پوچھا کہ کیا تم ٹھنڈے پانی سے نہا کر نہار منہ ایک مولی کھا سکتے ہو دیہاتی فورا گھر میں گیا ایک مولی لایا اور کر کر چبا گیا۔ بادشاہ سلامت نے اس دیہاتی کو دودن اپنے ساتھ رکھا اسے کوئی بیماری نہیں ہوئی اور وہ زندہ رہا۔ یہ دیکھ کر بادشاہ سلامت کو بہت غصہ آیا اور بادشاہ سلامت نے ایک فرمان جلاد کے نام جاری کیا کہ یہ خط ملتے ہی شاہی حکیم کا سر تن سے جدا کردیا جائے۔ جلاد کو جیسے ہی فرمان موصول ہوا اس نے شاہی حکیم کی گردن اتاردی۔ جب بادشاہ سلامت شکار سے لوٹے اور دربار لگا تو شاہی حکیم کا بیٹا فریاد لے کر حاضر ہوا اور اپنے والد کی موت کی وجہ دریافت کی بادشاہ نے کہا کہ تمہارے والد پر ہم بہت اعتبار کرتے تھے انہوں نے کہا تھا کہ اگر کوئی آدمی سردیوں کی صبح ٹھنڈے پانی سے نہا کر نہار منہ مولی کھائے تو نمونیہ سے مرجائے گا۔ لیکن ہمارے سبھی درباری گواہ ہیں ایک دیہاتی نے لگاتار تین دن تک صبح نہار منہ مولی کھائی لیکن اسے نا نمونیہ ہوا اور نا وہ مرا۔۔۔!! اس لئے شاہی حکیم کی گردن تن سے جدا کردی گئی۔ حکیم کے بیٹے نے کہا کہ بادشاہ سلامت میرے والد نے صحیح کہا تھا اور اس بات کو ثابت کرنے کیلئے مجھے ایک موقع عنایت کیا جائے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے والد کی بات کو درست ثابت کرسکتا ہوں، اس پر بادشاہ نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم تمہیں اپنی بات ثابت کرنے کا ایک موقع دیتے ہیں لیکن اگر تم ثابت نہیں کرسکے تو تمہیں بھی اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ حکیم کے بیٹے نے اس دیہاتی کو بلایا اور اس کو شاہی مہمان خانے میں رکوا دیا۔ دیہاتی کو رہنے کیلئے عالیشان محل دیا گیا خدمت کیلئے نوکر چاکر اور تینوں وقت شاہی خانساماں کے ہاتھ کا پکا کھانا کھلایا جانے لگا۔ ایک سال تک اس دیہاتی کو ویسے ہی شاہی ٹھاٹ باٹ سے رکھا گیا، ایک سال بعد جب دوبارہ سردی کا موسم آیا تو حکیم کے بیٹے نے اس دیہاتی کو بلایا اور میدان میں ٹھنڈے پانی سے نہانے اور نہار منہ مولی کھانے کیلئے کہا بہرحال دیہاتی نے مولی کھائی پھر اسے نمونیہ ہوا دوسرے روز شام تک بہت سے علاج و معالجے کئے گئے لیکن وہ ٹھیک نہیں ہوا اور مرگیا۔ بادشاہ بہت حیران ہوا تب حکیم کے بیٹے نے کہا کہ بادشاہ سلامت میرے والد نے جو بات کہی تھی وہ شہر میں اور عیش و آرام سے زندگی گزارنے والوں کے لوگوں کے تناظر میں کہی تھی۔ کہتے ہیں بادشاہ بہت نادم ہوا اس نے حکیم کے بیٹے سے معافی مانگی، خون بہا ادا کیا اور حکیم کے بیٹے کو اپنا شاہی حکیم مقرر کردیا۔ اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہیکہ ہر انسان کا امینئو سسٹم دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ بچپن میں سنی اس کہانی کو سنانے کا مقصد یہ ہیکہ جو کوئی بھی کرونا سے متاثر ہو کر صحت یاب ہوتا ہے اپنا "آزمودہ نسخہ" سوشل میڈیا پر عام کردیتا ہے اور دوسرے لوگ اس سے متاثر ہوکر ویسے ہی علاج پر اکتفا کررہے ہیں۔ اس سے پیچیدگیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ میری آپ سے استدعا ہیکہ ابتدائی علامات ظاہر ہونے پر چیسٹ فزیشن یا جنرل فزیشن کو ضرور دکھائیں یا کم از کم فیملی ڈاکٹر کے مشورے کے بعد ہی "آزمودہ نسخے" استعمال کریں۔ خوش رہیں، خوشیاں بانٹتے رہیں۔ 😊 💐💐💐

شاہین اور پہاڑی کوا

پہاڑی کوا وہ واحد پرندہ ہے جو شاہین کے سر پر سوار ہو جاتا ہے اور اس کی گردن پر مسلسل ٹھونگ مارتا رہتا ہے۔ شاہین اس کوے سے نا لڑتا ہے نا الجھتا ہے اور نا ہی اسے کوئی اہمیت دیتا ہے بلکہ وہ اپنے پر کھول کر اونچی اڑان بھرنا شروع کردیتا ہے۔ جب وہ اونچا اڑتا ہے تو بلندی پر آکسیجن کم ہوجاتی ہے اور کوے کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ اب شاہین جتنا بلند پرواز کرتا جاتا ہے کوے کیلئے سانس لینا اتنا ہی دشوار ہوتا جاتا ہے اس طرح کوا دم گھٹ کر اپنی موت آپ مرجاتا ہے۔۔ ضروری نہیں کہ ہر محاذ پر آپ ہر کس و ناکس سے الجھ جائیں، اپنے سے چھوٹے دشمنوں سے صرف نظر کریں اور اپنا کام کرتے چلے جائیں ان شاء ﷲ آپ کے دشمن آپ کی بلند پروازی سے خود ہی ختم ہوجائیں گے۔ ہم کو اب تک یہ سکھایا گیا ہیکہ دوستی سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے لیکن صرف دوستی ہی نہیں دشمنی بھی سوچ سمجھ کر کرنی چاہئے کبھی بھی اپنے سے کم تر سے مقابلہ آرائی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر آپ لڑنا چاہتے ہیں مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیشہ اپنے سے زیادہ طاقتور سے لڑیں یا مقابلہ کریں اس سے آپ کی استعداد میں اضافہ ہوگا اور مرتبہ بلند ہوگا۔ اگر آپ اپنے سے کم تر اور رزیل کو اہمیت دیں گے، الجھیں گے یا مقابلہ آرائی کرنے لگیں گے تو آپ کی استعداد کم ہوگی اور بالآخر آپ بلندی سے پستی کی طرف آجائیں گے۔

لوگ آپ کو اگنور کیوں کرتے ہیں؟

*لوگ آپ کو اگنور کیوں کرتے ہیں؟* معزالرحمان، ناندیڑ۔ ہم میں سے ہر ایک کو زندگی میں کم از کم ایک دفعہ اس بات کا احساس ہوتا ہیکہ "مجھے اگنور کیا جارہا ہے۔" ایسا احساس کبھی کبھار ہو تو ٹھیک ہے لیکن بار ہار ایسا ہورہا ہے تو پھر اپنے آپ کا جائزہ لینا چاہئے۔ *۱۔خود غرضی:* اگر آپ سیلفش ہیں آپ کی سوچ کا دائرہ اپنی ذات تک محدود ہے۔ آپ صرف اپنی ضروریات کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ آپ کی زندگی کی تمام دوڑ دھوپ کا محور و مرکز خود آپ کی اپنی ذات ہے تو لوگ آپ کو اگنور کرنا شروع کردیتے ہیں۔ دوسروں کی پرواہ کرنے سے لوگوں کے دل میں ہمارے لئے جگہ بن جاتی ہے۔ اور ہمیں "خوداعتمادی" کی دولت نصیب ہوتی ہے جبکہ خود غرضی صرف محرومی میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔ *۲۔ شکایات کرتے رہنا:* آپ ہمیشہ شکایت کرتے رہتے ہیں، شکایتی لہجے میں بات کرتے ہیں تو لوگ آپ سے دور ہوجاتے ہیں۔ گاڑی خراب ہے۔ سڑک خراب ہے۔ موسم اچھا نہیں ہے۔ حکومت اچھی نہیں ہے۔ آپ ملتے نہیں ہیں۔ ہمارا کام کرتے نہیں ہیں۔ اس طرح شکایتی اور مجہول لہجے میں بات کرنا مزید یہ کہ اطراف کی خرابیوں کو اجاگر کرتے رہنا دراصل ایک خاص مینٹالیٹی کی علامت ہے۔ اس ذہنیت کو وکٹم مینٹالیٹی (victim mentality) کہتے ہیں۔ اس میں انسان اپنے آپ کو "مجبور" و "مظلوم" سمجھتا ہے اور اپنی دکھ بھری داستان لوگوں کو سنا کر ہمدردی حاصل کرتا ہے۔ اس کی نظر خود اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر نہیں جاتی۔ ایسے لوگ ابتداء میں تو دوسروں کو متوجہ کرپاتے ہیں لیکن دھیرے دھیرے لوگ ان سے دور ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ *۳۔سیلف سینٹرڈ:* سیلف سینٹرڈ لوگ اپنے قصے سنانے ہیں اور اپنی کامیابیوں کا ہی تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ اگر آپ اپنی یا کسی اور کی اچیومنٹ کے بارے میں بتا رہے ہوں توآپ محسوس کریں گے کہ کچھ ہی دیر میں گفتگو انکی اپنی اچیومنٹ اور کامیابیوں کی طرف چلی جاتی ہے۔ سیلف سینٹرڈ لوگوں کے قصے میں وہ خود ہمیشہ "مرکزی کردار" میں رہتے ہیں اور دوسرے لوگ سائیڈ رول ادا کررہے ہوتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو نمایاں کرکے بتاتے رہتے ہیں اور بے موقع اپنی کامیابیوں کا ذکر چھیڑ دیتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حفیظ میرٹھی نے کہا تھا۔ موقع و محل کو بھی دیکھتے نہیں کچھ لوگ داستاں سنانی ہے داستاں سنائیں گے اگر آپ سیلف سینٹرڈ ہیں تو لوگ آپ کو دور سے دیکھ کر ہی کنی کاٹ لیتے ہیں۔ *۶۔دوسروں کی نہیں سننا:* بعض لوگ صرف اپنی سناتے ہیں اور دوسروں کی بات نہیں سنتے۔ جبکہ لسننگ ایک آرٹ ہے۔ لوگوں سے تعلق مضبوط بنانے کیلئے ان کی باتیں بغور سننی پڑے گی۔ اگر آپ کسی کو کوئی اچھی چیز دینا چاہتے ہیں تو وہ "اٹینشن " ہے۔ لوگ ان لوگوں کو پسند کرتے ہیں جو ان کی جانب توجہ دیتے ہیں۔ خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے آپ انکی بات بغور سن کر بہت ساری محبتیں سمیٹ سکتے ہیں۔ *۵۔تھڑدلے رہنا /چھچوری باتیں کرنا:* تھڑدلے یعنی ذرا سی بد نظمی اور پریشانی پر چیخ پکار شروع کر دینا اور ذرا سی کامیابی پر خوش ہونا اور ہلا گلا کرنا شروع کردینا۔ اگر آپ میں یہ عادت ہے تو لوگ لازما آپ کو اگنور کریں گے۔ اسکے علاوہ اگر آپ نچلی سطح کی زبان کا استعمال کرتے ہیں اور بیکار جوکس سنانے کے عادی ہیں تو لوگ آپ کو اگنور کرتے ہیں۔ *۶۔انٹینس رہنا:* اگر آپ ضروری اور غیر ضروری ہر چیز پر مکمل توجہ دیتے ہیں۔ اور ہر کام کو "سیریس انداز" میں کرنے کے عادی ہیں تو لوگ آپ سے دور رہنا شروع کردیتےہیں۔ جس کی حس ظرافت (sense of humour) اچھی ہو اسکے اطراف لوگ جمع ہوتے ہیں۔ ہر وقت ہر موقع پر "سیریس" رہنا ضروری نہیں کہیں کہیں بے تکلفی بھی ہونی چاہئے۔ خاص کر دوستوں کی محفل میں تو لازما بے تکلف رہنا چاہئے۔ *۷۔لوگوں سے فاصلہ رکھنا:* اگر آپ لوگوں سے ملتے نہیں ہیں اور اگر ملتے بھی ہیں تو ایک خاص فاصلہ بنائے رکھتے ہیں تو لوگ آپ کو اگنور کرنا شروع کردیتے ہیں۔ علامہ اقبال نے کہا تھا۔ ہجوم کیوں ہے اتنا شراب خانے میں فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق شراب خانے میں ہجوم اس لئے ہیکہ وہاں کے بوڑھے آدمی کے اخلاق بہت اچھے ہیں اور وہ ہر ایک سے اچھے انداز میں پیش آتا ہے۔ آپ بھی شکایتی لہجے کو چھوڑ دیں اور لوگوں سے گفتگو کے دوران انکے اچھے کاموں کی تعریف کریں۔ ہمت کے کلمات کہیں۔ امید کی باتیں کریں۔ اچھا شگن دیں۔۔۔پھر دیکھئے آپ کے اطراف میں بھی لوگوں کا ہجوم لگ جائے گا۔

Tuesday, September 15, 2009

Narrated 'Umar bin Al-Khattab:
I heard Allah's Apostle saying, "The reward of deeds depends upon the intentions and every person will get the reward according to what he has intended. So whoever emigrated for worldly benefits or for a woman to marry, his emigration was for what he emigrated for."