Friday, March 4, 2022
آزمودہ نسخے
کہتے ہیں ایک بادشاہ تھا اسکے پاس ایک حکیم تھا جو ہر مرض کا علاج کردیا کرتا تھا بادشاہ اس حکیم کو بہت عزیز رکھتا تھا۔ ایک دن بادشاہ سلامت نے شاہی حکیم سے پوچھا کہ ایسا کوئی مرض ہے جسکا علاج انکے پاس نا ہو؟۔
حکیم نے کہا کہ ہاں، اگر کوئی شخص سردیوں کی صبح ٹھنڈا پانی نہا کر نہار منہ ایک مولی کھالے تو اس سے نمونیہ ہوجاتا ہےاور اس نمونیہ کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں ہے، دوسرے روز شام تک وہ آدمی نمونیہ سے مر جاتا ہے۔
ایک دفعہ کی بات ہے بادشاہ سلامت شکار پر تھے اور ایک گاوں کے قریب پڑاؤ میں ٹہرے ہوئے تھے۔ صبح ہوئی تو بادشاہ سلامت نے دیکھا کہ ایک دیہاتی سخت سردی کے باوجود میدان میں ٹھنڈا پانی نہارہا ہے۔ بادشاہ نے اپنے مصاحبوں کی طرف دیکھا اور کہا کہ اگر یہ آدمی ٹھنڈے پانی سے نہائے اور نہار منہ ایک مولی کھالے تو اسے نمونیہ ہو جائے گا ور یہ کل شام تک مر جائے گا۔ مصاحبوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہوگا۔ پھر کچھ لوگ دیہاتی کے پاس گئے اور اس سے پوچھا کہ کیا تم ٹھنڈے پانی سے نہا کر نہار منہ ایک مولی کھا سکتے ہو دیہاتی فورا گھر میں گیا ایک مولی لایا اور کر کر چبا گیا۔ بادشاہ سلامت نے اس دیہاتی کو دودن اپنے ساتھ رکھا اسے کوئی بیماری نہیں ہوئی اور وہ زندہ رہا۔ یہ دیکھ کر بادشاہ سلامت کو بہت غصہ آیا اور بادشاہ سلامت نے ایک فرمان جلاد کے نام جاری کیا کہ یہ خط ملتے ہی شاہی حکیم کا سر تن سے جدا کردیا جائے۔ جلاد کو جیسے ہی فرمان موصول ہوا اس نے شاہی حکیم کی گردن اتاردی۔
جب بادشاہ سلامت شکار سے لوٹے اور دربار لگا تو شاہی حکیم کا بیٹا فریاد لے کر حاضر ہوا اور اپنے والد کی موت کی وجہ دریافت کی بادشاہ نے کہا کہ تمہارے والد پر ہم بہت اعتبار کرتے تھے انہوں نے کہا تھا کہ اگر کوئی آدمی سردیوں کی صبح ٹھنڈے پانی سے نہا کر نہار منہ مولی کھائے تو نمونیہ سے مرجائے گا۔ لیکن ہمارے سبھی درباری گواہ ہیں ایک دیہاتی نے لگاتار تین دن تک صبح نہار منہ مولی کھائی لیکن اسے نا نمونیہ ہوا اور نا وہ مرا۔۔۔!!
اس لئے شاہی حکیم کی گردن تن سے جدا کردی گئی۔
حکیم کے بیٹے نے کہا کہ بادشاہ سلامت میرے والد نے صحیح کہا تھا اور اس بات کو ثابت کرنے کیلئے مجھے ایک موقع عنایت کیا جائے۔ اگر آپ اجازت دیں تو میں اپنے والد کی بات کو درست ثابت کرسکتا ہوں، اس پر بادشاہ نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم تمہیں اپنی بات ثابت کرنے کا ایک موقع دیتے ہیں لیکن اگر تم ثابت نہیں کرسکے تو تمہیں بھی اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔
حکیم کے بیٹے نے اس دیہاتی کو بلایا اور اس کو شاہی مہمان خانے میں رکوا دیا۔ دیہاتی کو رہنے کیلئے عالیشان محل دیا گیا خدمت کیلئے نوکر چاکر اور تینوں وقت شاہی خانساماں کے ہاتھ کا پکا کھانا کھلایا جانے لگا۔ ایک سال تک اس دیہاتی کو ویسے ہی شاہی ٹھاٹ باٹ سے رکھا گیا، ایک سال بعد جب دوبارہ سردی کا موسم آیا تو حکیم کے بیٹے نے اس دیہاتی کو بلایا اور میدان میں ٹھنڈے پانی سے نہانے اور نہار منہ مولی کھانے کیلئے کہا بہرحال دیہاتی نے مولی کھائی پھر اسے نمونیہ ہوا دوسرے روز شام تک بہت سے علاج و معالجے کئے گئے لیکن وہ ٹھیک نہیں ہوا اور مرگیا۔
بادشاہ بہت حیران ہوا تب حکیم کے بیٹے نے کہا کہ بادشاہ سلامت میرے والد نے جو بات کہی تھی وہ شہر میں اور عیش و آرام سے زندگی گزارنے والوں کے لوگوں کے تناظر میں کہی تھی۔ کہتے ہیں بادشاہ بہت نادم ہوا اس نے حکیم کے بیٹے سے معافی مانگی، خون بہا ادا کیا اور حکیم کے بیٹے کو اپنا شاہی حکیم مقرر کردیا۔
اس کا مطلب کیا ہے؟
اس کا مطلب یہ ہیکہ ہر انسان کا امینئو سسٹم دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔
بچپن میں سنی اس کہانی کو سنانے کا مقصد یہ ہیکہ جو کوئی بھی کرونا سے متاثر ہو کر صحت یاب ہوتا ہے اپنا "آزمودہ نسخہ" سوشل میڈیا پر عام کردیتا ہے اور دوسرے لوگ اس سے متاثر ہوکر ویسے ہی علاج پر اکتفا کررہے ہیں۔ اس سے پیچیدگیوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
میری آپ سے استدعا ہیکہ ابتدائی علامات ظاہر ہونے پر چیسٹ فزیشن یا جنرل فزیشن کو ضرور دکھائیں یا کم از کم فیملی ڈاکٹر کے مشورے کے بعد ہی "آزمودہ نسخے" استعمال کریں۔
خوش رہیں، خوشیاں بانٹتے رہیں۔ 😊
💐💐💐
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
No comments:
Post a Comment