Friday, March 4, 2022

لوگ آپ کو اگنور کیوں کرتے ہیں؟

*لوگ آپ کو اگنور کیوں کرتے ہیں؟* معزالرحمان، ناندیڑ۔ ہم میں سے ہر ایک کو زندگی میں کم از کم ایک دفعہ اس بات کا احساس ہوتا ہیکہ "مجھے اگنور کیا جارہا ہے۔" ایسا احساس کبھی کبھار ہو تو ٹھیک ہے لیکن بار ہار ایسا ہورہا ہے تو پھر اپنے آپ کا جائزہ لینا چاہئے۔ *۱۔خود غرضی:* اگر آپ سیلفش ہیں آپ کی سوچ کا دائرہ اپنی ذات تک محدود ہے۔ آپ صرف اپنی ضروریات کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ آپ کی زندگی کی تمام دوڑ دھوپ کا محور و مرکز خود آپ کی اپنی ذات ہے تو لوگ آپ کو اگنور کرنا شروع کردیتے ہیں۔ دوسروں کی پرواہ کرنے سے لوگوں کے دل میں ہمارے لئے جگہ بن جاتی ہے۔ اور ہمیں "خوداعتمادی" کی دولت نصیب ہوتی ہے جبکہ خود غرضی صرف محرومی میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔ *۲۔ شکایات کرتے رہنا:* آپ ہمیشہ شکایت کرتے رہتے ہیں، شکایتی لہجے میں بات کرتے ہیں تو لوگ آپ سے دور ہوجاتے ہیں۔ گاڑی خراب ہے۔ سڑک خراب ہے۔ موسم اچھا نہیں ہے۔ حکومت اچھی نہیں ہے۔ آپ ملتے نہیں ہیں۔ ہمارا کام کرتے نہیں ہیں۔ اس طرح شکایتی اور مجہول لہجے میں بات کرنا مزید یہ کہ اطراف کی خرابیوں کو اجاگر کرتے رہنا دراصل ایک خاص مینٹالیٹی کی علامت ہے۔ اس ذہنیت کو وکٹم مینٹالیٹی (victim mentality) کہتے ہیں۔ اس میں انسان اپنے آپ کو "مجبور" و "مظلوم" سمجھتا ہے اور اپنی دکھ بھری داستان لوگوں کو سنا کر ہمدردی حاصل کرتا ہے۔ اس کی نظر خود اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں پر نہیں جاتی۔ ایسے لوگ ابتداء میں تو دوسروں کو متوجہ کرپاتے ہیں لیکن دھیرے دھیرے لوگ ان سے دور ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ *۳۔سیلف سینٹرڈ:* سیلف سینٹرڈ لوگ اپنے قصے سنانے ہیں اور اپنی کامیابیوں کا ہی تذکرہ کرتے رہتے ہیں۔ اگر آپ اپنی یا کسی اور کی اچیومنٹ کے بارے میں بتا رہے ہوں توآپ محسوس کریں گے کہ کچھ ہی دیر میں گفتگو انکی اپنی اچیومنٹ اور کامیابیوں کی طرف چلی جاتی ہے۔ سیلف سینٹرڈ لوگوں کے قصے میں وہ خود ہمیشہ "مرکزی کردار" میں رہتے ہیں اور دوسرے لوگ سائیڈ رول ادا کررہے ہوتے ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو نمایاں کرکے بتاتے رہتے ہیں اور بے موقع اپنی کامیابیوں کا ذکر چھیڑ دیتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں حفیظ میرٹھی نے کہا تھا۔ موقع و محل کو بھی دیکھتے نہیں کچھ لوگ داستاں سنانی ہے داستاں سنائیں گے اگر آپ سیلف سینٹرڈ ہیں تو لوگ آپ کو دور سے دیکھ کر ہی کنی کاٹ لیتے ہیں۔ *۶۔دوسروں کی نہیں سننا:* بعض لوگ صرف اپنی سناتے ہیں اور دوسروں کی بات نہیں سنتے۔ جبکہ لسننگ ایک آرٹ ہے۔ لوگوں سے تعلق مضبوط بنانے کیلئے ان کی باتیں بغور سننی پڑے گی۔ اگر آپ کسی کو کوئی اچھی چیز دینا چاہتے ہیں تو وہ "اٹینشن " ہے۔ لوگ ان لوگوں کو پسند کرتے ہیں جو ان کی جانب توجہ دیتے ہیں۔ خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے آپ انکی بات بغور سن کر بہت ساری محبتیں سمیٹ سکتے ہیں۔ *۵۔تھڑدلے رہنا /چھچوری باتیں کرنا:* تھڑدلے یعنی ذرا سی بد نظمی اور پریشانی پر چیخ پکار شروع کر دینا اور ذرا سی کامیابی پر خوش ہونا اور ہلا گلا کرنا شروع کردینا۔ اگر آپ میں یہ عادت ہے تو لوگ لازما آپ کو اگنور کریں گے۔ اسکے علاوہ اگر آپ نچلی سطح کی زبان کا استعمال کرتے ہیں اور بیکار جوکس سنانے کے عادی ہیں تو لوگ آپ کو اگنور کرتے ہیں۔ *۶۔انٹینس رہنا:* اگر آپ ضروری اور غیر ضروری ہر چیز پر مکمل توجہ دیتے ہیں۔ اور ہر کام کو "سیریس انداز" میں کرنے کے عادی ہیں تو لوگ آپ سے دور رہنا شروع کردیتےہیں۔ جس کی حس ظرافت (sense of humour) اچھی ہو اسکے اطراف لوگ جمع ہوتے ہیں۔ ہر وقت ہر موقع پر "سیریس" رہنا ضروری نہیں کہیں کہیں بے تکلفی بھی ہونی چاہئے۔ خاص کر دوستوں کی محفل میں تو لازما بے تکلف رہنا چاہئے۔ *۷۔لوگوں سے فاصلہ رکھنا:* اگر آپ لوگوں سے ملتے نہیں ہیں اور اگر ملتے بھی ہیں تو ایک خاص فاصلہ بنائے رکھتے ہیں تو لوگ آپ کو اگنور کرنا شروع کردیتے ہیں۔ علامہ اقبال نے کہا تھا۔ ہجوم کیوں ہے اتنا شراب خانے میں فقط یہ بات کہ پیر مغاں ہے مرد خلیق شراب خانے میں ہجوم اس لئے ہیکہ وہاں کے بوڑھے آدمی کے اخلاق بہت اچھے ہیں اور وہ ہر ایک سے اچھے انداز میں پیش آتا ہے۔ آپ بھی شکایتی لہجے کو چھوڑ دیں اور لوگوں سے گفتگو کے دوران انکے اچھے کاموں کی تعریف کریں۔ ہمت کے کلمات کہیں۔ امید کی باتیں کریں۔ اچھا شگن دیں۔۔۔پھر دیکھئے آپ کے اطراف میں بھی لوگوں کا ہجوم لگ جائے گا۔

No comments:

Post a Comment