Narrated 'Umar bin Al-Khattab:
I heard Allah's Apostle saying, "The reward of deeds depends upon the intentions and every person will get the reward according to what he has intended. So whoever emigrated for worldly benefits or for a woman to marry, his emigration was for what he emigrated for."
Tuesday, September 15, 2009
Subscribe to:
Post Comments (Atom)
بحث
ReplyDeleteاگر آپ گوگل سرچ کو عربی میں دیکهیں تو وہاں سرچ کی جگہ 'بحث'لکها آئے گا.
آپ نے دیکها ہوگا،مرغی اپنے پنجوںسے زمین کرید تی ہے، جب اسے دانہ یا کهانے کی کوئی چیز ملتی ہے وہ اسے ایک طرف رکھ دیتی ہے، خود کهاتی اور بچوں کو بھی کهلاتی ہے، اسی کو عربی میں 'بحث' کہتے ہیں.
اچهی چیزوں کو پانے کی جستجو میں کریدنے کی کیفیت کو عربی میں بحث کہتے ہیں.مقصد یہ ہو کہ جو اچھی چیز ہاتھ آجائے اس سے خود فائدہ اٹھائیں، دوسروں کو بهی فائدہ ہو.
جبکہ اردو میں یہ لفظ منفی معنوں میں استعمال ہو تا ہے.
سوشل نیٹورک ویب سائٹس پر مسلمانوں کے درمیان عقائد اور مسالک کی بحثیں چلتی ہیں، یہ سب بحثیں اردو والی ہوتی ہیں اس میں اچھی بات کو قبول کرنے یا سمجهنے کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا پہلو نمایاں ہوتا ہے.
ایسے میں تحریکی رفقاء کی ذمہ داری ہے کہ گفتگو کو مثبت رخ دیں، شدت ہرگز نہ اختیار کریں، ، کیونکہ شدت کم علمی کی نشانی ہے.
القرآن حجت لکااوعلیک
ReplyDeleteقرآن اللہ تعالٰی کا زبر دست احسان اور عظیم الشان نعمت ہے، اس کلام کی کوئی مثال نہیں.اسی لیے فرمایا گیا کہ تمام انسان اور جنات ملکر بهی اس جیسا کلام بنانا چاہیں تو بنا نہیں سکتے.(بنی اسرائیل-88)
قرآن کریم کی بزرگی ایک یہ بهی ہیکہ تمام مخلوق اس کےمقابلے سے عاجز ہے.جیسے خدا کی ذات میں کوئی شریک نہیں، اس کی کوئی تمثیل نہیں جیسے وہ بےنظیر ہے، ویسے ہی اس کا کلام باطل سے پاک، بے مثال و بے نظیر ہے. اور اپنے جیسے سے پاک ہے.
اللہ کا کلام مومنین کیلیے سراسر رحمت اور شفا ہے.جو بهی اسے تهام لیتا ہے اسے یہ اللہ کی رحمت کے زیرسایہ لا کهڑا کرتا ہے.قرآن مومنین کیلیے شفا ہے.ہر قسم کی قلبی ذہنی نفسانی اخلاقی معاشرتی اور تمدنی بیماریوں سے نجات دلاکر مومنین کو ہشاش بشاش کرنے کیلئے نازل ہوا ہے.
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا
اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے.(بنی اسرائیل -82)
جان لینا چاہئے کہ قرآناسکے ماننے والوں کیلئے رحمت و شفا ہے، لیکن جو لوگ اس کو جاننے کے بعد اس سے اعراض کرتے ہیں ، کتراتے ہیں ، اس کے سمجهنے میں سستی دکھاتے ہیں، اس کے مقابلے میں دوسرے لٹریچر کو اہمیت دیتے ہیں، اور اس کی تعلیمات کے نفاذ کو یقینی بنانے کیلئے کو ششیں نہیں کرتے، وہی لوگ ظالم ہیں اوروہی خسارے میں رہنے والے ہیں.قرآن تو سراسر رحمت ہے، لیکن جن لوگوں کے سامنے قرآن آچکا ہے، اسکے بعد بهی اس سے دور دور رہنے کی وجہ سے خسارہ ہوگا، یعنی لوگ اپنی لاعلمی کی وجہ سے نہیں بلکہ قرآن کو جاننے کے باوجود بے اعتنائی برتنے کی وجہ
تحریکی زندگی میں دین اسلام کو سمجهنے سمجهانے کیلئے خو مخواہ ادهر ادهر کے فلسفوں میں تانک جهانک کرنا، دور کی کوڑیاں لانا ، اسلام کو حالات حاضرہ سے سمجهنے کی کوشش، سب اس بات کی غماز ہیکہ آپ کا قرآن سے تعلق بهت کمزور ہے.جبکہ اللہ نے اس کام کو اور آسان بنا دیا .... Surah Al-Isra, Verse 89:
ReplyDeleteوَلَقَدْ صَرَّفْنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ مِن كُلِّ مَثَلٍ فَأَبَىٰ أَكْثَرُ النَّاسِ إِلَّا كُفُورًا
اور ہم نے قرآن میں سب باتیں طرح طرح(کی مثالوں) سے بیان کردی ہیں۔ مگر اکثر لوگوں نے انکار کرنے کے سوا قبول نہ کیا.
غلبہ دین کیلئے سرگرم عمل نوجوانوں کیلئے ضروری ہیکہ قرآن سے مضبوط تعلق پیدا کریں.ورنہ موجودہ حالات میں دین کے غلبہ کیلئے strategy کیا ہو اس گتہی کو سلجهانامشکل ہے، بلکہ قرآن کو چجوڑنے کی وجہ سے ہم سخت خسارہ میں پڑھ جائیں گے. اسی بات کو اللہ کے رسول نے ایک مختصر لیکن نہایت بلیغ جملہ میں بیان کی ہے.
القرآن حجتہ لک او علیک...یعنی قرآن تیرے حق میں حجت ہے یا تیرے خلاف حجت ہے.
دعا کے معنی کسی کو پکارنے اور بلانے کے ہیں. اللہ تعالیٰ نے انسان کو مشکلات میں پیدا کیا.(خلق الانسان فی کبد)ان مشکلوں اور مصیبتوں سے انسان ہمیشہ پریشان و مضطر رہتا ہے.یہ دنیا انسان کے لیے آزمائش ہے، ہر آن اس پر آفتیں برستی ہیں،ایسی صورت میں ان کٹهن راہوں میں انسان کیا کرے...؟ کس سے مدد لے...کہاں سکون پائے...
ReplyDeleteادْعُوا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَخُفْيَةً إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ
(لوگو) اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا(اعراف 55)
اللہٰ اپنے بندوں کو دعا کی ہدایت کرتا ہے.جس میں ان کی دنیا و آخرت کی بهلائ ہے.فرمان ہیکہ عاجزی مسکینی اور آہستگی سے پکارو. حضرت انو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبه سفر میں ہم ایک وادی میں پہنچے لوگ زور زور سے دعا مانگنے لگے اس پر اللہ کے رسول نے کہا کہ لوگو اپنی جانوں پر رحم کرو جسے تم پکار رہے ہو وہ غائب یا بہرا نہیں ہے، وہ بهت نزدیک اور سننے والا ہے.تضرعا کے معنی ذلت مسکینی اور اطاعت کے ہیں،اور خفیتہ کے معنی دلوں کا خشوع و خضوع ہے.اس میں پوشیدگی اختیار کر نے کو کہا جارہا ہے، نہ ریا کاری کی جائے، نہ زور زور سے آہ و بکاہ کی جائے دل کے کامل یقین کے ساتھ چپکے چپکے پکارا جائے....آہستگی اور عاجزی اختیار کی جائے. خواہ مخواہ حد سے بڑھنے والوں کو اللہ دوست نہیں رکھتا، دعا میں خاص کر اس کا لحاظ رکھنا چاہیے. حضرت سعد سے مروی ہیکہ اللہ کے رسول نے کہا کہ عنقریب کچه لوگ هونگے جو دعا میں حد سے تجاوز کر جائیں گے. پہر آپ نے یہی آیت تلاوت فرمائی اور کہا کہ اتنا کہ دینا کافی ہے کہ اے اللہ میں تجہ سے جنت اور اس سے قریب کرنے والے قول و فمل کی توفیق چاہتا ہوں،اور جہنم اور اس سے